Select Menu

پاک اردو ٹیوب

پاک اردو ٹیوب

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

نیویارک میں دوسرا پاکستان فلم فیسٹیول کا میلہ 7 اور 8 جولائی کو سجے گا


وسرا پاکستان فلم فیسٹیول 7 اور 8 جولائی کو نیویارک میں ہوگا، فلم فیسٹیول کا اہتمام اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن نے کی
ا ہے، فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلمیں دکھائی جائیں گی جن میں میکال ذوالفقار اورعلی کاظمی کی  فلم’’ نہ بینڈ نہ باراتی‘‘،گزشتہ برس ریلیز ہوئی ہمایوں سعید اور مہوش حیات کی کامیاب ترین فلم’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘، صنم سیعد، آمنہ شیخ اور عدنان ملک کی فلم ’’کیک‘‘، ماہرہ خان کی فلمیں ’’ورنہ‘‘اور’’سات دن محبت ان‘‘، علی رحمان اورحریم فاروقی کی فلم’’پرچی‘‘شامل ہیں۔

فیسٹیول میں آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے بھی شریک ہوں گی جب کہ پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان، اداکار میکال ذوالفقار، شہریار منور، آمنہ شیخ، حریم فاروقی، زیب بنگش اور مہوش حیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ فیسٹیول میں 193 ممالک کے سفارتکار پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی کارکردگی دیکھ سکیں گے۔

نفسیاتی بیماریاں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، نئی تحقیق


تحقیقی جریدے سائنس میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق نفسیاتی امراض بھی موروثی ہوتے ہیں بالخصوص شیزو فرینیا اور بائی پالر ڈس آرڈر کے نسل در نسل منتقل ہونے کے شواہد ملے ہیں تاہم ذہنی امراض جیسے پارکنسن اور الزائمر نیورو لوجیکل ڈس آرڈر کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ نفسیاتی امراض بھی محض کسی دماغی یا نیورون کی خرابی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی کے تحقیق کاروں نے پاپولیشن جینیٹک کے ڈائریکٹر بین نیل کی سربراہی میں 600 سے زائد طبی مراکز کے تحقیق کاروں کی مدد سے ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کے دو گروہ کا وسیع مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ نفسیاتی امراض موروثی ہوسکتے ہیں البتہ ذہنی امراض دماغ یا نیورون میں پیدا ہونے والی خرابی کا باعث ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیق سے نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں مدد ملے گی تاہم ابھی اس سلسلے میں مزید تحقیق جاری ہے اور جینوم تھراپی کے ذریعے اس بیماری سے نبرد آزما ہونے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے اگر سائنس دان اپنی اس کاوش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خودکشی پر آمادہ کرنے والے ان نفسیاتی امراض سے نجات پانا آسان ہوجائے گا۔

شدید گرمی کو بجلی میں بدلیے

یہ حیرت انگیز کمال سولر پینل کے ذریعے دکھانا ممکن ہے۔جب سورج پوری طرح روشن ہو اور دھوپ تپنے لگے تو یہ سولر پینل بہترین طریقے سے کام کرتے اور زیادہ بجلی بناتے ہیں۔ان جادوئی پینلوں کی وجہ سے ہزارہا پاکستانیوں کی زندگیاں مثبت انداز میں تبدیل ہو چکیں۔امام دینو کی مثال ہی لیجیے۔

شہر قائد کراچی سے جانبِ مشرق روانہ ہوں تو ترانوے میل سفر کرنے کے بعد سجاول شہر آجاتا ہے۔ آٹھ لاکھ آبادی والا یہ شہر ایک زرعی مرکز ہے۔ اسی شہر میں امام دینو عرصہ دراز سے چائے کی دکان چلا رہا ہے۔ پانچ سال قبل اس نے اپنی دکان میں 24 انچ کا ٹی وی لگایا اور اس پر فلمیں چلانے لگا۔ اس باعث دکان میں گاہکوں کی آمدورفت بڑھ گئی اور یوں آمدن میں بھی اضافہ ہوا۔امام دینو کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔

موسم گرما آتے ہی مگر اس کا کاروبار تقریباً ٹھپ ہو جاتا ہے۔ وجہ یہ کہ گرمی بڑھتے ہی وطن عزیز کے دیگر دیہی علاقوں کی طرح سجاول پر بھی لوڈشیڈنگ کا عذاب نازل ہوجاتا اور بجلی کئی گھنٹے غائب رہتی۔ بجلی نہ ہونے سے جب ٹی وی بند رہتا تو گاہکوں کی تعداد بھی قدرتاً کم ہوجاتی۔پھر صرف وہی گاہک آتے جنھیں چائے کی طلب ہوتی۔ایک سال امام دینو نے جنریٹر پر ٹی وی چلایا مگر اس کے تیل کا خرچ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی خاص بچت نہ ہوئی۔ پھر پچھلے سال ایک واقف کار نے اسے شمسی یا سولر پینلوں کی بابت بتایا۔ اسے معلوم ہوا کہ ایک مقامی کمپنی 500 واٹ کے سولر پینل کرائے پر دیتی ہے جو سورج کی دھوپ کے ذریعے بجلی بناتے ہیں۔

سجاول ہمارے پیارے دیس کے ایسے خطّے میں واقع ہے جہاں سال کے بیشتر مہینوں میں سورج آب و تاب سے چمکتا ہے۔ اسی لیے اس خطے میں سولر پینل عمدگی سے کام کرتے ہیں۔ اس ایجاد کے بارے میں ساری معلومات حاصل کرکے امام دینو نے بھی 500 واٹ کے سولر پینل اپنی دکان کی چھت پر لگوالیے۔ وہ ماہانہ ڈھائی ہزار روپے اس کا کرایہ ادا کرنے لگا۔یہ جدت اس کے لیے مبارک ثابت ہوئی۔ان سولر پینلوں سے بنی بجلی سخت ترین لوڈشیڈنگ میں بھی ٹی وی کو رواں دواں رکھنے لگی۔یوں اس کی دکان میں گاہکوں کا ہجوم رہتا۔

اب یہ حال ہے کہ امام دینو سرکاری بجلی استعمال نہیں کرتا۔ سولر پینلوں سے بنی بجلی ہی دکان میں موجود برقی اشیا چلاتی ہے۔ اس نے دکان میں موبائل فون چارجنگ کا بندوبست بھی کررکھا ہے تاکہ گاہکوں کی نظروں میں اپنے کاروبار کو مزید پُرکشش بناسکے۔ سولر پینلوں کا ماہانہ ڈھائی ہزار روپے کرایہ نکال کر اسے اچھی خاصی بچت ہوجاتی ہے۔ سولر پینل اس کے لیے بہت مفید ثابت ہوئے۔ ان کی بدولت امام دینو کو نہ صرف لوڈشیڈنگ سے نجات مل گئی اور کاروبار بجلی کی عدم موجودگی میں خطرے سے دوچار نہیں ہوا۔

آج دیہی پاکستان میں سولر پینل امام دینو کی طرح دیگر ہزارہا ہم وطنوں کی زندگیوں میں انقلاب رہے ہیں۔ وطن عزیز میں تقریباً 65 تا 70 فیصد لوگ دیہات اور قصبات میں مقیم ہیں۔ بدقسمتی سے ان کی آدھی تعداد بجلی کی سہولت سے محروم ہے۔ گویا جب بھی سورج غروب ہو، تو تقریباً سات کروڑ پاکستانیوں کے گھر اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ مگر اب سولر پینلوں کی بدولت رات کی تاریکی میں بھی ان کے گھروں اور کام کی جگہوں پر اجالا پھیلنے لگا ہے۔ یہ اجالا ہمارے دیہی باشندوں کی زندگی میں کئی مثبت تبدیلیاں لارہا ہے۔

مثال کے طور پر اب دیہات کے بچے رات کو بھی پڑھ سکتے ہیں۔ مرد و خواتین اس قابل ہوگئے کہ رات کو بھی اپنے مختلف کام کرسکیں۔ یوں انہیں کام کرنے کی خاطر زیادہ وقت مل گیا۔ایک بڑی تبدیلی یہ آئی کہ اب دیہی پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بھی بجلی سے چل کر زیرزمین پانی نکالنے والے پمپ لگ چکے۔یوں ان علاقوں کے مکین اس قابل ہو گئے کہ بارش کا انتظار کیے بغیر کھیتی باڑی کر سکیں۔

مزید براں دیہی پاکستان کے ایسے علاوں میں شمسی چولہا بھی مقبول ہو رہا ہے جہاں سورج بکثرت چمکتا ہے۔یہ چولہا جلانے کے لیے نہ مٹی کے تیل کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ لکڑیاں کاٹنے کی مشقت ،بس چولہا دھوپ میں رکھیے اور اس پہ دیگچی رکھ دیجیے۔سالن آہستہ آہستہ پکتا رہے گا۔شمسی چولہے پہ سالن دیر سے پکتا ہے مگر دیہات کی سست رفتار زندگی کے لیے یہ موزوں و مفید آلہ ہے۔

بجلی بنانے کی نئی ٹیکنالوجی

آج دنیا بھر میں سائنس داں ہوا، سورج اور دیگر قدرتی وسائل توانائی کی مدد سے بجلی بنانے پر تحقیق و تجربات کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ان قدرتی وسائل سے بھی وافر طور پر نوازا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان ہوا اور شمسی توانائی کی بدولت ’’پچاس، پچاس ہزار‘‘ میگاواٹ بجلی بناسکتا ہے۔ گویا پاکستان اپنے قدرتی وسائل… پانی، ہوا اور سورج کی مدد سے بجلی بنانے لگے تو اللہ کے فضل وکرم سے فاضل بجلی پڑوسی ممالک کو فروخت کرسکتا ہے۔ چین اور بھارت، دونوں میں بجلی کی طلب بڑھ رہی ہے۔برطانیہ کی ایک ویب سائٹ، فائنڈ کام (www.finder.com) سے منسلک ماہرین دنیا بھر میں جاری مختلف سرگرمیوں کے اعدادو شمار جمع کرتے ہیں۔ حال ہی میں ان کی ایک دلچسپ تحقیق سامنے آئی۔ انہوں نے دنیا کے 147 ممالک پر تحقیق کرکے یہ دیکھا کر ہر ملک میں کتنے رقبے پر سولر پینل لگا دیئے جائیں، تو اس ملک میں بجلی کی طلب پوری ہوجائے گی۔

اس تحقیق سے افشا ہوا کہ اگر پاکستان کے 4380 مربع کلو میٹر رقبے پر سولر پینل لگ جائیں، تو وہ تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے۔ گویا تب کسی اور ذریعے سے بجلی بنانے کی ضرورت ہی ہی نہیں رہے گی۔ پاکستان کا رقبہ 818,913 مربع کلو میٹر ہے۔ 4380 مربع کلو میٹر اس کا صرف 0.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔ یعنی حکومت پاکستان چاہے تو اس رقبے پر سولر پینل لگا کر باآسانی ملکی ضروریات کے لیے درکار بجلی بناسکتی ہے۔اس کے علاوہ یہ بجلی بہرحال رکازی ایندھن(Fossil fuel ) سے چلتے بجلی گھروں سے سستی ہوگی۔ہمارا پڑوسی چین سولر پینلوں کے ذریعے دنیا میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس کی مقدار 53 ہزار میگاواٹ ہے۔ چین کے بعد بھارت کا نمبر ہے جہاں 20 ہزار میگاواٹ بجلی سولر پینل بنانے لگے ہیں۔ بھارتی حکومت کی خواہش ہے کہ وہ 2022ء تک سولر پینلوں کے ذریعے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنانے لگے۔مگر پاکستان اس شعبے میں خاصا پیچھے ہے۔نیز افسوس کے پاکستانی حکمران متبادل ذرائع توانائی اپنانے کی خاطر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہے۔

بھارت کے حکمرانوں میں لاکھ خرابیاں ہوں، مگر وہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔مثلاً ریاست کرناٹک میں ’’پوگادا سولر پارک‘‘ تعمیر کررہا ہے۔ تکمیل کے بعد یہ دنیا میں سب سے بڑا سولر پارک بن جائے گا۔ اس پارک میں لگے ہزاروں سولر پینل دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے۔ یہ پارک تیرہ ہزار ایکڑ رقبے (53 مربع کلو میٹر) پر پھیلا ہوا ہے۔

یاد رہے،سولر پینل میں سولر سیل نصب ہوتے ہیں۔ یہی سیل سورج کی روشنی سے بجلی بناتے ہیں۔ یہ بجلی پھر براہ راست الیکٹرونکس اشیا چلاتی ہے یا اسے بیٹری میں مقید کیا جاتا ہے۔ ماہرین مسلسل تحقیق و تجربے کررہے ہیں تاکہ نہ صرف معیاری سولر پینل وجود میں آئیں بلکہ وہ سستے بھی ہوجائیں۔

پچھلے پانچ سال کے دوران سولر پینل اچھے خاصے سستے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان کے دیہات میں ان کی مانگ بڑھ رہی ہے جو اکثر لوڈشیڈنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔ وہاں دن میں سولہ تا اٹھارہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ ان علاقوں میں مصروف کار بعض کمپنیاں ایک تا تین ہزار روپے میں سولر پینل کرائے پر بھی دینے لگی ہیں۔

یہ 50 تا 500 واٹ بجلی بنانے والے چھوٹے سولر پینل ہیں۔ ان سے پیدا کردہ بجلی چھ بلب اور دو پنکھے چلاسکتی ہے۔ بعض دیہاتی ٹی وی چلانے کی خاطر سولر پینل لگواتے ہیں۔ غرض وطن عزیز کے دیہی علاقوں میں سولر پینل لگانے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ ایک خوش آئند امر ہے۔ بجلی کی مدد سے کاروبار پھلتے پھولتے ہیں اور یوں دیہاتیوں کو غربت کے پنجوں سے آزاد ہونے کا موقع ملتا ہے۔

بجلی کا بحران

اس برس بھی موسم گرما آتے ہی وطن عزیز کے کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی۔ بجلی کی عدم دستیابی سے نہ صرف شدید گرمی انسان پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتی ہے بلکہ روزمرہ کام کام کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ افسوس کہ حکومت وقت پچھلے پانچ برس میں لوڈشیڈنگ پر پوری طرح قابو نہیں پاسکی۔

حکومت وقت کا دعویٰ ہے کہ لوڈشیڈنگ ان علاقوں میں ہورہی ہے جہاں بجلی چوری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بجلی چوروں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟ ان چند مجرموں کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگوں کی بجلی بند کردینا کس قسم کا انصاف ہے؟ بجلی چور چاہے کتنا ہی طاقتور اور بااثر ہو، اگر اسے ایک بار سخت سزا مل جائے، تو وہ آئندہ بجلی چوری کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ مزید براں اس طرح دوسرے بجلی چور بھی عبرت پکڑ کر اپنے گناہ سے تائب ہوں گے۔اعدادو شمار کی رو سے پاکستان 29573 میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے مگر بجلی گھروں کی مرمت اور ڈیموں میں پانی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار 17 سے 19 ہزار میگاواٹ کے درمیان ہے۔ موسم گرما میں بجلی کی طلب 21 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ چنانچہ دو سے چار ہزار میگاواٹ کی کمی بذریعہ لوڈشیڈنگ پوری ہوتی ہے۔

یہ درست ہے کہ پچھلی حکومتوں کے ادوار کی نسبت موجودہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کم ہوئی ہے مگر افسوس کہ وہ بھی بجلی کی پیداوار سے متعلق ماحول دشمن سرکاری پالیسی سے چھٹکارا نہیں پاسکی۔آج بھی وطن عزیز میں 64 تا 67 فیصد بجلی ان بجلی گھروں میں بنتی ہے جہاں رکازی ایندھن مثلاً گیس،فرنس آئل وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ یہ رکازی ایندھن ماحولیات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ خصوصاً ان کی وجہ سے ہوا بتدریج زہریلی ہورہی ہے۔ آلودہ ماحول میں رہنے کے باعث لاکھوں پاکستانی نت نئی بیماریوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

یہ رکازی ایندھن پھر مہنگا پڑتا ہے۔ اسے خریدنے پر پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان رکازی ایندھن استعمال کرنے والے نجی بجلی گھروں کو بروقت ادائیگی نہیں کررہی۔ چناں چہ اب حکومت کو انہیں تقریباً 935 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ اس ہوش ربا عدد کے بڑھنے کی رفتار خاصی تیز ہے۔رکازی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں میں بنی بجلی مہنگی بھی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسی بجلی کے ہر ایک کلوواٹ پر 12 سے 15 سینٹ خرچ اٹھتا ہے۔ یہ ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا کردہ بجلی سے بھی زیادہ مہنگی بجلی ہے۔ اس کے باوجود طاقتور لابیوں کی وجہ سے حکومت پاکستان رکازی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھر بند نہیں کرسکی۔ حالانکہ پوری دنیا میں ایسے بجلی گھر ختم کیے جارہے ہیں۔

وطن عزیز میں بجلی کا صرف 30 فیصد حصہ ڈیم پیدا کرتے ہیں۔ اس بجلی کے ہر ایک کلو واٹ پر صرف دو سینٹ لاگت آتی ہے۔ افسوس کہ ہماری حکومتیں پچھلے پچاس سال میں قابل ذکر تعداد میں نئے ڈیم تعمیر نہیں کرسکیں۔ اگر مناسب تعداد میں ڈیم بن جاتے تو پاکستانیوں کو سستی بجلی میسر آتی۔ یوں سستا مال بناکر پاکستان اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر لیتا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان ڈیموں سے کم از کم 41 ہزار میگاواٹ بجلی بناسکتا ہے۔ یہ بجلی آلودگی سے پاک ہوتی ہے۔ یوں پاکستانیوں کو صاف ستھری ہوا میسر آتی ہے۔

آزادی کے بعد بھارت میں 4300 ہزار ڈیم بن چکے۔ یہ ڈیم بجلی بنانے کے علاوہ پانی ذخیرہ کرنے میں بھی کام آتے ہیں۔ پاکستان میں پانی تیزی سے کم ہورہا ہے۔ جبکہ ہر سال دریاؤں کا بہت سا پانی سمندر میں جاگرتا ہے۔ یہ پانی محفوظ کرنے کے لیے بھی ہمیں نئے ڈیم بنانے ہوں گے تاکہ مستقبل میں پانی کی کمی جنم نہ لے

انڈس موٹرز کمپنی نے مختلف کار برانڈز کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کردیا۔


موٹر ڈیلرز کے مطابق انڈس موٹرز نے مختلف کار قیمتوں میں 50 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے اضافے کا اعلان کیا ہے۔
کرولا ایکس ایل آئی کی قیمت 50 ہزار روپے اور جی ایل آئی کی قیمت میں ایک لاکھ جب کہ آلٹس اور گرینڈی قیمتیں ڈیڑھ لاکھ روپے بڑھائی گئی ہیں۔
کمپنی کی جانب سے فورچیونر کی قیمت ڈھائی لاکھ روپے بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ قیمتیں روپے کی قدر میں کمی کے سبب بڑھانا پڑی ہیں۔

پیزا کی شوقین د لہنوں کیلئے پھولوں کی بجائے ’پیزا گلدستہ‘ تیار



ویڈنگ سیزن کا آغاز ہوچکا ہے اور اگر آپ کی شادی ہونے والی ہے اور آپ کا پارٹنر پیزا کا دیوانہ ہے تو آپ بھی شادی میں پھولوں کا گلدستہ دینے کے بجائے ’پیزا گلدستہ‘ دے سکتے ہیں۔نیوجرسی کے مورس ٹاو ¿ن میں ولا اٹالین کچن نے ویڈنگ سیزن پر خصوصی طور پر نئے جوڑوں کے لیے پیزا گلدستہ متعارف کیا ہے تاکہ جو افراد پیزا کے شوقین ہیں وہ شادی کے دن پھولوں کا گلدستہ دینے کے بجائے دلچسپ اور مزیدار ’پیزا گلدستہ‘ دیں۔ایسی ہی ایک تصویر گزشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دلہے نے شادی پر دلہن کو ’پیزا گلدستہ‘ دیا ہے اور دونوں پیزا کھانے کے شوقین ہیں۔پیزا گلدستہ کو نیو یارک فوڈ اسٹائلسٹ جیسی بیئرڈین نے شاندار طریقے سے تیار کیا ہے جس میں پنیر سے لے کر دودھ، مشروم اور تمام لوازمات شامل ہیں۔ولا اٹالین کچن کے ڈیجیٹل ڈائریکٹر می می ونڈرلچ نے اسے دنیا کا پہلا ’پیزا گلدستہ‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ رواں برس کا سب سے انوکھا ٹرینڈ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیزا لورز کے لیے ان کی شادی پر اس سے بہترین تحفہ اور کچھ نہیں ہوسکتا اور ان کی شادی میں پھولوں کی خوشبو کے بجائے پیزا سے مصالحوں کا تڑکا لگے گ

اور اب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن کی بھی چھٹی ہو گئی



سلام آباد (ویب ڈیسک)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔صدرِ مملکت ممنون حسین نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی منظوری دیدی۔ نگران وزیرِاعظم ناصر الملک نے انھیں ہٹانے کی سمری دو روز قبل صدرِ مملکت کو بھجوائی تھی۔یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ماروی میمن کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے نام ایک درخواست ارسال کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن کو ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ن لیگ کی حکومت کی پانچ سالہ مدت کے اختتام کے ساتھ ہی کابینہ ختم ہو گئی تاہم ماروی میمن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا اور وہ اب تک بی آئی ایس پی کی سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں۔

جنسی زیادتی اور جبری مشقت: بھارت خواتین کیلئے سب سے خطرناک ملک قرار



عالمی ماہرین کی رائے پر مشتمل تھومپسن رائٹرز فاؤنڈیشن کے سروے میں جنسی تشدد، ہراساں کیے جانے اور ذہنی اور گھریلو تشدد سمیت خواتین کو درپیش مختلف قسم کے خطرات پر سوال کیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ اس فہرست میں پہلا نمبر ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں خواتین کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جارہے۔
اس فہرست میں خواتین کے لیے افغانستان دوسرا، شام تیسرا، صومالیہ چوتھا اور سعودی عرب پانچواں خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔
جبکہ خواتین کے لیے خطرناک ملکوں میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔
ٹاپ ٹین ملکوں میں شامل امریکا واحد مغربی ملک ہے، جسے خواتین کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
'بھارت میں ہر گھنٹے میں جنسی زیادتی کے 4 واقعات'
بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں گزشتہ کچھ سالوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا خاص طور پر 2012 میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جو بعدازاں دوران علاج دم توڑ گئی تھی۔
جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور نئی دہلی کو 'ریپ کیپیٹل' بھی کہا جانے لگا۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق بھات میں 2007 سے 2016 کے دوران خواتین کے خلاف جرائم میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے، جہاں ہر گھنٹے میں جنسی زیادتی کے 4 کیسز ہوتے ہیں۔
اسی طرح بھارت میں کام کی جگہوں پر  بھی جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات میں 170 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس حوالے سے رابطہ کرنے پر بھارت کی وزارت برائے ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ نے سروے کے نتائج پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
سروے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس سروے کی ضرورت عالمی طور پر جاری 'می ٹو مہم' کے بعد محسوس کی گئی۔
واضح رہے کہ اس مہم میں دنیا بھر سے ہزاروں خواتین اپنے ساتھ پیش آئے والے جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات منظر عام پر لائی ہیں۔